باپ دادا کو زندہ کرنے پر بھی یقینا قادر ہے، وہ سب کو زندہ کرے گا، لیکن بہت سے آدمی ا س بات کو نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے اور ان کا نہ جاننا اس وجہ سے ہے کہ وہ زندہ کئے جانے کے دلائل کی طرف مائل نہیں ہوتے اور نہ ہی ان میں غور کرتے ہیں ۔( مدارک، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۱۱۲۱، جلالین، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۶، ص۴۱۵، ملتقطاً)
وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَىٕذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت اور جس دن قیامت قائم ہوگی باطل والوں کی اس دن ہار ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے خسارہ پائیں گے۔
{وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لیے ہے۔} اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ پہلی بار زندہ کرنے پر قادر ہے اور دوسری بار بھی زندہ کرنے پر قادر ہے، اور ا س آیت میں زندہ کرنے کی قدرت ہونے پر اللہ تعالیٰ نے ایک عام فہم دلیل بیان فرمائی کہ آسمانوں اور زمین کی تمام ممکن چیزوں پر اللہ تعالیٰ قادر ہے اور جب تمام ممکن چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت ثابت ہے اوریہ بات بھی ثابت ہے کہ مرنے کے بعد زندگی مل جانا ممکن ہے کیونکہ اگر زندگی ملنا ممکن نہ ہو تو پہلی بار بھی زندگی نہ ملتی تو ا س سے ثابت ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔( تفسیرکبیر، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۷، ۹/۶۸۰)
{وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ: اور جس دن قیامت قائم ہوگی۔} حشر و نشر کے ممکن ہونے کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ