Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
230 - 764
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں  پڑھی جاتی ہیں  تو ان کی (جوابی)دلیل صرف یہ ہوتی ہے کہ کہتے ہیں : اگر تم سچے ہوتوہمارے باپ دادا کو لے آؤ۔
{وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ: اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں  پڑھی جاتی ہیں ۔} یعنی جب ان مشرکین کے سامنے قرآنِ پاک کی وہ آیتیں  پڑھی جاتی ہیں  جن میں  اس بات کی دلیلیں  مذکور ہیں  کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کو ان کی موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے اور وہ کفار اُن دلیلوں  کا جواب دینے سے عاجز ہو جاتے ہیں  تو ان کی جوابی دلیل صرف یہ ہوتی ہے کہ اگر تم مُردوں  کو دوبارہ زندہ کئے جانے کی بات میں سچے ہوتوہمارے باپ دادا کوزندہ کرکے لے آؤتاکہ ہم دوبارہ زندہ ہونے پر یقین کر لیں ۔(مدارک، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۱۱۲۰، خازن، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۵، ۴/۱۲۰-۱۲۱، ملتقطاً)
قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ اللہ تمہیں  جِلاتا ہے پھر تم کو مارے گا پھر تم سب کو اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں  کوئی شک نہیں  لیکن بہت آدمی نہیں  جانتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ :اللہ تمہیں  زندگی دیتاہے پھروہ تمہیں  مارے گا پھر تم سب کوقیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں  کوئی شک نہیں ، لیکن بہت آدمی نہیں  جانتے۔
{قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان لوگوں  سے فرما دیں  کہ تم پہلے بے جان نطفہ تھے ،اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں  زندگی دی، پھروہ تمہاری عمریں  پوری ہونے کے وقت تمہیں  مارے گا، پھر تم سب کو زندہ کرکے قیامت کے دن اکٹھا کرے گا جس میں  کوئی شک نہیں ، تو جو پروردگار عَزَّوَجَلَّ ایسی قدرت والا ہے وہ تمہارے