حکم سے روحیں قبض کئے جانے کا انکار کرتے تھے اور ہر مصیبت کو دَہْر اور زمانے کی طرف منسوب کرتے تھے ، اس لئے انہوں نے یہ کہا۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ وہ یہ بات علم اور یقین کی بنا پر نہیں کہتے بلکہ واقع کے برخلاف صرف گمان دوڑاتے ہیں ۔( روح البیان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۴، ۸/۴۴۹، مدارک، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۱۱۲۰، ملتقطاً)
زمانے کو برا کہنا ممنوع ہے:
یہاں ایک مسئلہ یاد رکھیں کہ مصیبتوں اور تکلیفوں کو زمانے کی طرف منسوب کرنا اور ناگوار مصیبتیں آنے پر زمانے کو برا کہنا ممنوع ہے کیونکہ احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’آدم کی اولاد زمانے کو گالیاں دیتی ہے جبکہ زمانہ (کا خالق)میں ہوں ،رات اور دن میرے قبضے میں ہیں ۔( بخاری، کتاب الادب، باب لا تسبّوا الدہر، ۴/۱۵۰، الحدیث: ۶۱۸۱)
یہی آج کل کے دہریوں کی حالت ہے جو دَہْر یعنی زمانے کی طرف ہی سب کچھ منسوب کرتے ہیں اور خدا کا انکار کرتے ہیں ، اگرچہ انہیں آج تک اس بات کی کوئی دلیل نہیں ملی کہ اگر کوئی خالق نہیں ہے تو مخلوق کیسے وجود میں آگئی؟ دہریے ابھی تک بے معنیٰ و فضول تھیوریاں پیش کرنے میں لگے ہوئے ہیں اورحقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت تک دنیا کے وجود میں آنے کی کوئی توجیہ نہیں کرسکتے جب تک کہ خالقِ حقیقی کے وُجود کو تسلیم نہیں کریں گے۔
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآىٕنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب اُن پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جائیں تو بس اُن کی حجت یہی ہوتی ہے کہ کہتے ہیں ہمارے باپ دادا کو لے آؤ تم اگر سچے ہو۔