Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
228 - 764
دیکھ کر آؤ۔ وہ گئے اور اسے دیکھا،پھر آئے اورعرض کی:یارب !تیری عزت کی قسم، مجھے خطرہ ہے کہ جنت میں  کوئی داخل نہ ہوسکے گا ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آگ پیدا کی تو فرمایا’’ اے جبریل! جاؤ اور اسے دیکھو۔ وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر آئے اورعرض کی: یارب! تیری عزت کی قسم،جو اس کے بارے میں  سنے گاوہ اس میں  داخل نہ ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے اسے لذّتوں  سے گھیر دیا ،پھر فرمایا’’ اے جبریل! اسے دیکھو۔ وہ گئے اور اسے دیکھ کرعرض کی: یارب! تیری عزت کی قسم مجھے خطرہ ہے کہ اس میں  داخل ہوئے بغیر کوئی نہ بچے گا۔( ابو داؤد، کتاب السنّۃ، باب فی خلق الجنّۃ والنار، ۴/۳۱۲، الحدیث: ۴۷۴۴)
	اللہ تعالیٰ ہمیں  نفسانی خواہشات کی پیروی سے بچنے اور قرآن و حدیث کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُۚ-وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍۚ-اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ(۲۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور بولے وہ تو نہیں  مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی مرتے ہیں  اور جیتے ہیں  اور ہمیں  ہلاک نہیں  کرتا مگر زمانہ اور اُنھیں  اس کا علم نہیں  وہ تو نرے گمان دوڑاتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورانہوں  نے کہا:زندگی تو صرف ہماری دنیاوی زندگی ہی ہے ، ہم مرتے ہیں  اور جیتے ہیں  اور ہمیں  زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے اور انہیں  اس کا کچھ علم نہیں ، وہ صرف گمان دوڑاتے ہیں ۔
{وَ قَالُوْا: اورانہوں  نے کہا۔} مرنے کے بعد زندہ ہونے کا انکار کرنے والوں  کوجب دوسری مرتبہ زندہ کئے جانے کا وعدہ سنایا گیا تو انہوں  نے اپنی انتہائی سرکشی اور گمراہی کی بنا پر کہا کہ دنیا کی جو زندگی ہم گزار رہے ہیں  اس کے علاوہ اور کوئی زندگی نہیں ،ہم میں  سے بعض مرتے ہیں  اور بعض پیدا ہوتے ہیں  اور ہمیں  صرف دن اور رات کا آنا جانا ہی ہلاک کرتا ہے۔مشرکین مرنے کے معاملے میں زمانے کو ہی مؤثِّر مانتے تھے جبکہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام کا اور اللہ تعالیٰ کے