ہٹے ہوگا اور گمراہی اختیار کرے گا اس لئے اسے گمراہ کر دیا۔
اور ارشاد فرمایا کہ نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والے کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیاتو اس کی وجہ سے اس نے ہدایت و نصیحت کو نہ سنا ، نہ سمجھا اور نہ ہی راہِ حق کو دیکھا،تو اللہ تعالیٰ کے گمراہ کرنے کے بعد اب اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا،تواے لوگو!کیا تم اس سے نصیحت حاصل نہیں کرتے؟( خازن، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۳، ۴/۱۲۰، مدارک، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۱۱۲۰، ملتقطاً)
نفسانی خواہشات کی پیروی دنیا اور آخرت کے لئے بہت نقصان دہ ہے:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ نفسانی خواہشات کی پیروی دنیا اور آخرت دونوں کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔ نفسانی خواہشات کی پیروی کی مذمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ‘‘(قصص:۵۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کی طرف سے ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ‘‘(ص:۲۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نفس کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادے گی بیشک وہ جو اللہ کی راہ سے بہکتے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اس بنا پر کہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا ہے۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا‘‘(کہف:۲۸)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس کی بات نہ مان جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔