Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
225 - 764
اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةًؕ-فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا ٹھہرالیا اور اللہ نے اُسے با وصف علم کے گمراہ کیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں  پر پردہ ڈالا تو اللہ کے بعد اُسے کون راہ دکھائے تو کیا تم دھیان نہیں  کرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بھلا دیکھو تو وہ جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنالیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجودگمراہ کردیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں  پر پردہ ڈال دیا تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائے گا؟تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں  کرتے؟
{اَفَرَءَیْتَ: بھلا دیکھو تو۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے کفار کے احوال اور ان کے گروہوں  کے برے افعال بیان فرمائے ہیں ۔مشرکین کا یہ حال تھا کہ وہ پتھر ، سونے اور چاندی وغیرہ کو پوجتے تھے ،جب کوئی چیز انہیں  پہلی چیز سے اچھی معلوم ہوتی تھی تو پہلی کو توڑ کر پھینک دیتے اور دوسری چیز کو پوجنے لگتے۔چنانچہ کفار کی اسی حرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ذرا اس شخص کا حال تودیکھو جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنالیا اور اپنی خواہش کے تابع ہوگیا کہ جسے نفس نے چاہا اسے پوجنے لگا اور اللہ تعالیٰ نے اسے علم کے باوجودگمراہ کردیا کہ اس گمراہ نے حق کو جان پہچان کر بے راہ روی اختیار کی۔
	مفسّرین نے علم کے باوجود گمراہ کرنے کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں  کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے انجامِ کار اور اس کے شقی ہونے کو جانتے ہوئے اُسے گمراہ کیا، یعنی اللہ تعالیٰ پہلے سے جانتا تھا کہ یہ اپنے اختیار سے حق کے راستے سے