Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
222 - 764
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیاجن لوگوں  نے برائیوں  کا ارتکاب کیا وہ یہ سمجھتے ہیں  کہ ہم انہیں  ان جیسا کردیں  گے جو ایمان لائے اور انہوں  نے اچھے کام کئے (کیا) ان کی زندگی اور موت برابر ہوگی؟ وہ کیا ہی برا حکم لگاتے ہیں ۔
{اَلَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ: کیا جن لوگوں  نے برائیوں  کا ارتکاب کیا۔} مکہ کے مشرکین کی ایک جماعت نے مسلمانوں  سے کہا تھا کہ اگر تمہاری بات حق ہو اور مرنے کے بعد اٹھنا ہو تو بھی ہم ہی افضل رہیں  گے جیسا کہ دنیا میں  ہم تم سے بہتر رہے۔ ان کے رد میں  یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ جولوگ کفر اور گناہوں  میں  مصروف ہیں  کیا وہ یہ سمجھتے ہیں  کہ ہم انہیں  ان جیسا کردیں  گے جو ایمان لائے اورجنہوں  نے اچھے کام کئے،کیا ایمانداروں  اور کافروں  کی موت اور زندگی برابر ہوجائے گی؟ ایسا ہر گز نہیں  ہوگا کیونکہ ایماندار زندگی میں  نیکیوں پر قائم رہے اور کافر بدیوں  میں  ڈوبے رہے تو ان دونوں  کی زندگی برابر نہ ہوئی اور ایسے ہی ان کی موت بھی یکساں  نہیں  کیونکہ مومن کی موت بشارت اور رحمت و کرامت پر ہوتی ہے جبکہ کافر کی موت رحمت سے مایوسی اور ندامت پر ہوتی ہے اور کافراپنے آپ کو مومنین کے برابر سمجھ کر کتنا برا حکم لگا رہے ہیں  حالانکہ مومنین تو قیامت کے دن اعلیٰ جنتوں  میں  عزت و کرامت اور عیش و راحت پائیں  گے اور کفار جہنم کے سب سے نچلے طبقوں  میں  ذلّت و اِہانت کے ساتھ سخت ترین عذاب میں  مبتلا ہوں  گے۔( خازن، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۱، ۴/۱۱۹-۱۲۰، مدارک، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۱۱۱۹-۱۱۲۰، ملتقطاً)
مومن اور کافر کی زندگی ایک جیسی نہیں :
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومن اور کافر کی زندگی ایک جیسی نہیں  اسی طرح دونوں  کی موت میں  بھی فرق ہے، ا س سے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو نہ صرف خود اپنی صورت، سیرت اورزندگی کافروں  کی طرح بنائے ہوئے ہیں  بلکہ دوسروں  کو بھی صورت و سیرت میں  کفار کی طرح ہونے کی دعوت دینے میں  مصروف ہیں  ،حالانکہ کسی مسلمان کی یہ شان نہیں  کہ وہ صورت اور سیرت میں  کفار کی طرح بنے بلکہ مسلمان کی شان تو یہ ہے کہ صورت اور سیرت میں  کفار سے ممتاز رہے ۔اسی مناسبت سے یہاں  ہم چند وہ اعمال بیان کرتے ہیں  جن سے مسلمانوں  اور کفار میں  فرق کیا جاتا ہے۔
(1)…نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا مسلمانوں  کا کام ہے جبکہ برائی کی دعوت دینا اور نیکی سے منع کرنا کافروں  اور منافقوں کا کام ہے،جیسا کہ منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: