کے مقابلے میں کچھ کام نہ دیں گے اور بے شک کافر صرف دنیا میں ایک دوسرے کے دوست ہیں جبکہ آخرت میں ان کا کوئی دوست نہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے مومنین کا دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ دوست ہے اور آخرت میں بھی وہی دوست ہے۔(روح البیان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۱۸-۱۹، ۸/۴۴۴، خازن، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۱۸-۱۹، ۴/۱۱۹، ملتقطاً)
هٰذَا بَصَآىٕرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ(۲۰)
ترجمۂکنزالایمان: یہ لوگوں کی آنکھیں کھولنا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت و رحمت۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ قرآن لوگوں کیلئے آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں اور یقین رکھنے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
{هٰذَا بَصَآىٕرُ لِلنَّاسِ: یہ لوگوں کیلئے آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں ہیں ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ کی طرف جو کتاب نازل فرمائی یہ اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر مشتمل ہے جو قیامت تک رہیں گے اور اس میں تمام لوگوں کے لئے وہ دلائل اور نشانیاں موجود ہیں جن کی انہیں دین کے احکام میں ضرورت ہے ،جو شخص اس کے احکامات پر عمل کرتا ہے تو یہ اسے جنت کی طرف ہدایت دیتا ہے اور جو اس پر صحیح طریقے سے ایمان لاتا ہے یہ اس کے لئے رحمت ہے اور دنیاو آخرت میں اسے عذاب سے بچاتا ہے۔( تفسیر منیر، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۲۰، ۱۳/۲۷۱، الجزء الخامس والعشرون)
اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْؕ-سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: کیا جنھوں نے برائیوں کا اِرتکاب کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اُنھیں ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ اِن کی اُن کی زندگی اور موت برابر ہوجائے کیا ہی بُرا حکم لگاتے ہیں ۔