Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
223 - 764
’’ اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ ‘‘(توبہ:۶۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: منافق مرد اور منافق عورتیں  سب ایک  ہی ہیں ،برائی کا حکم دیتے ہیں  اور بھلائی سے منع کرتے ہیں ۔
	اورمسلمانوں  کے بارے میں  ارشاد فرمایا :’’وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ‘‘(توبہ:۷۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیںایک دوسرے کے رفیق ہیں ،بھلائی کا حکم دیتے ہیں  اور برائی سے منع کرتے ہیں۔
(2)…نماز ادا کرنا مسلمانوں  کا کا م ہے اور نماز ترک کرنا مشرکوں  کا سا کام ہے،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ‘‘(روم:۳۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور نماز قائم رکھو اور مشرکوں  میں سے نہ ہونا۔
	 اور حضرت جابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’انسان اور اس کے کفر و شرک کے درمیان فرق نماز نہ پڑھنا ہے۔( مسلم، کتاب الایمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ، ص۵۷، الحدیث: ۱۳۴(۸۲))
(3)…مسلمان داڑھیاں  بڑھاتے اور مونچھیں  پَست رکھتے ہیں  جبکہ مشرکین اس کے برعکس کرتے تھے ۔حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مشرکین کی مخالفت کرو اور داڑھیاں  بڑھاؤ اور مونچھیں  کم کر دو۔( بخاری، کتاب اللباس، باب تقلیم الاظفار، ۴/۷۵، الحدیث: ۵۸۹۲)
	اورحضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مونچھیں  کم کراؤ اور داڑھیاں  چھوڑ دو اور مجوسیوں  کی مخالفت کرو۔( مسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ، ص۱۵۴، الحدیث: ۵۵(۲۶۰))
	اللہ تعالیٰ ہمیں  صورت ا ور سیرت میں  کفار سے ممتاز رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔