Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
220 - 764
حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت پر ایک زمانہ ایساآئے گا کہ فقہاء ایک دوسرے سے حسد کریں  گے اور ایک دوسرے سے اس طرح لڑائی کیا کریں  گے جیسے جنگلی بکرے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں ۔( تاریخ بغداد، ذکر من اسمہ عبد الرحمن، ۵۴۴۷-عبد الرحمن بن ابراہیم بن محمد بن یحی۔۔۔ الخ، ۱۰/۳۰۱)
	اللہ تعالیٰ اہلِ علم حضرات کو اپنا اصلی مقصد سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِـعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۸)اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ-وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۚ-وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: پھر ہم نے اس کام کے عمدہ راستہ پر تمہیں  کیا تو اسی راہ چلو اور نادانوں  کی خواہشوں  کا ساتھ نہ دو۔بے شک وہ اللہ کے مقابل تمہیں  کچھ کام نہ دیں  گے اور بے شک ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں  اور ڈر والوں  کا دوست اللہ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر ہم نے آپ کو اس معاملہ (یعنی دین) کے عمدہ راستے پررکھا تو تم اسی راستے پر چلو اور نادانوں  کی خواہشوں  کے پیچھے نہ چلنا۔بیشک وہ اللہ کے مقابلے میں  تمہیں  کچھ کام نہ دیں  گے اور بیشک ظالم ایک دوسرے کے دوست ہیں  اوراللہ پرہیزگاروں  کا دوست ہے۔
{ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ: پھر ہم نے آپ کو(دین کے)معاملے میں عمدہ راستے پررکھا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے بنی اسرائیل کے بعد آپ کو دین کے معاملے میں  عمدہ راستے(یعنی اسلام) پر رکھا لہٰذا آپ اسی راستے پر چلیں  اور اس کے احکامات نافذ کریں  اور قریش کے نادان سردار جو آپ کو اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں  ان کی خواہشوں  کے پیچھے نہ چلناکیونکہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ