Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
210 - 764
{تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ: یہ اللہ کی آیتیں  ہیں ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ نے لوگوں  کے سامنے اپنی قدرت کے یہ دلائل بیان فرمائے ہیں  اور یہ دلائل جھوٹ اور باطل پر مشتمل نہیں  بلکہ ہم آپ کو حق کے ساتھ ان کی خبر دیتے ہیں  تو پھر اللہ تعالیٰ اور اس کے بیان کئے ہو ئے دلائل کو جھٹلاکر مشرکین کونسی بات پر ایمان لائیں  گے ۔ 
	یاد رہے کہ یہ آیت ِمبارکہ حدیثِ پاک کا انکار کرنے والوں  کی دلیل ہر گز نہیں  بن سکتی کیونکہ یہاں  ’’حدیث‘‘ سے حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان مراد نہیں  بلکہ کفار کی اپنی باتیں  مراد ہیں ،اگر یہاں  ’’حدیث‘‘ سے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان مراد لیا جائے تو یہ آیت اُن تمام آیات کے خلاف ہو گی جن میں  رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کا حکم دیاگیا ہے ، نیز یہ ویسے بھی جہالت ہوگی کہ حدیث کا لفظ یہاں  اپنے لغوی معنٰی کے اعتبار سے بیان ہوا تو اسے فنِّ حدیث کی اصطلاح پر کیسے مُنْطَبِقْ کیا جاسکتاہے۔ 
وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ(۷) یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَاۚ-فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(۸)
ترجمۂکنزالایمان: خرابی ہے ہر بڑے بہتان ہائے گنہگار کے لیے۔ اللہ کی آیتوں  کو سنتا ہے کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں  پھر ہَٹ پر جمتا ہے غرور کرتا گویا انھیں  سُنا ہی نہیں  تو اُسے خوش خبری سناؤ درد ناک عذاب کی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہر بڑے بہتان باندھنے والے، گناہگار کے لئے خرابی ہے۔ (جو)اللہ کی آیتوں  کو سنتا ہے کہ اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں  پھرتکبر کرتے ہوئے ضد پر ڈٹ جاتا ہے گویااس نے ان آیتوں  کو سنا ہی نہیں  تو ایسے کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سناؤ۔
{وَیْلٌ: خرابی ہے۔} اس سے پہلی آیت میں  بیان فرمایاگیا کہ کافر اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں  کو چھوڑ کر کو ن سی بات پر ایمان لائیں  گے ، اور جب وہ ایمان نہ لائے تو اس آیت سے ان کے لئے بہت بڑی وعید بیان کی جا رہی ہے،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر بڑے بہتان باندھنے والے، گنہگار کے لئے خرابی ہے اور یہ وہ