احوال میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں ہیں کیونکہ یہ سب کسی قادر، مختار، واحد، حکمت والی اور مہربان ہستی کے وجود اور تصرف کے بغیر ممکن نہیں اور یہ نشانیاں ان لوگوں کے لئے ہیں جو عقل مند ہیں ۔( تفسیرکبیر، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۹/۶۷۰، روح البیان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۸/۴۳۶، ملتقطاً)
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعا لیٰ کی قدرت کے دلائل جاننے کی نیت سے سائنس اورریاضی کا علم حاصل کرنا عبادت ہے۔
قدرت کی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے والے لوگ:
یہاں کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پردلالت کرنے والی مختلف نشانیاں بیان فرمانے کے بعد ایک جگہ فرمایا’’ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ دوسری جگہ ارشاد فرمایا’’یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ اور تیسری جگہ ارشاد فرمایا’’عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں ‘‘ اس کے بارے میں امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :میرے گما ن کے مطابق اس ترتیب کا سبب یہ ہوسکتا ہے کہ اگر تم ایمان والے ہو تو ان دلائل کو سمجھ جاؤ گے اور اگر تم فی الحال مومن نہیں بلکہ حق اور یقین کے طلبگار ہو تو ان دلائل کو سمجھو اور اگر تم نہ ایمان والے ہو اور نہ یقین کرنے والے ، لیکن کم از کم عقلِ سلیم رکھنے والوں میں سے ہو تو ان دلائل کی معرفت حاصل کرنے کی خوب کوشش کرو۔( تفسیرکبیر، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۹/۶۷۱)
تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّۚ-فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی بات پر ایمان لائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں پھر لوگ اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟