شخص ہے جس کے سامنے قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ انہیں سن کر ایمان لانے سے تکبر کرتے ہوئے اپنے کفر پراصرار کرتا ہے اور وہ ایسا بن جاتا ہے گویااس نے ان آیتوں کو سنا ہی نہیں ،تو اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ایسے شخص کو قیامت کے دن جہنم کے درد ناک عذاب کی خوشخبری سنادو۔
مفسّرین نے اس آیتِ مبارکہ کا شان نزول یہ بھی بیان کیاہے کہ نَضْر بن حارِث عجمی لوگوں (جیسے رستم اور اسفندیار) کے قصے کہانیاں سنا کر لوگوں کو قرآنِ پاک سننے سے روکتا تھا ،اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
یاد رہے کہ اس آیت کا نزول اگرچہ نَضْر بن حارِث کے لئے ہے لیکن اس وعید میں ہر وہ شخص داخل ہے جو دین کو نقصان پہنچائے اور ایمان لانے اور قرآن سننے سے تکبر کرے۔( تفسیرطبری، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۷-۸، ۱۱/۲۵۴، مدارک، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۷-۸، ص۱۱۱۷، ملتقطاً)
وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْــٴَـاﰳ اتَّخَذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ(۹) مِنْ وَّرَآىٕهِمْ جَهَنَّمُۚ-وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْــٴًـا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ(۱۰) هٰذَا هُدًىۚ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ہماری آیتوں میں سے کسی پر اطلاع پائے اس کی ہنسی بناتا ہے اُن کے لیے خواری کا عذاب۔اُن کے پیچھے جہنم ہے اور اُنھیں کچھ کام نہ دے گا ان کا کمایا ہوا اور نہ وہ جو اللہ کے سوا حمایتی ٹھہرا رکھے تھے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ یہ راہ دکھانا ہے اور جنھوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا اُن کے لیے دردناک عذاب میں سے سخت تر عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب اسے ہماری آیتوں میں سے کسی کاعلم ہوتا ہے تواسے ہنسی بنالیتا ہے، ان کیلئے ذلیل کردینے