Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
208 - 764
شکل، مُعَیَّن وصف اور مُعَیَّن اعضاء کا ہونا،یونہی ان کا عمر کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں  اور ایک حال سے دوسرے حال میں  داخل ہونا کسی قادر ، مختار اور واحد ہستی کے وجود اور تصرّف کے بغیر ممکن نہیں  اور یہ نشانیاں ان لوگوں  کے لئے ہیں  جو یقین کرنے والے ہیں ۔( تفسیرکبیر، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۹/۶۷۰، روح البیان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۸/۴۳۵، ملتقطاً)
وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور رات اور دن کی تبدیلیوں  میں  اور اس میں  کہ اللہ نے آسمان سے روزی کا سبب مینہ اُتارا تو اس سے زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کیا اور ہواؤں  کی گردش میں  نشانیاں  ہیں  عقل مندوں  کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور رات اور دن کی تبدیلیوں  میں  اور اس میں جو اللہ نے آسمان سے رزق کا سبب بارش اتاری تو اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا اور ہواؤں  کی گردش میں  عقل مندوں  کے لئے نشانیاں  ہیں ۔
{وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ: اور رات اور دن کی تبدیلیوں  میں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ رات اور دن کی تبدیلیوں  میں  کہ ان میں  سے ایک جاتا ہے تو دوسرا آ جاتا ہے، کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے اور دن بڑا اور کبھی دن چھوٹا ہوتا ہے تو رات بڑی، کبھی یہ گرم ہوتے ہیں  اور کبھی سرد،رات اندھیری ہوتی ہے اور دن روشن،اسی طرح آسمان کی جانب سے اللہ تعالیٰ جو بندوں  کی روزی کاسبب یعنی بارش کا پانی نازل فرماتا ہے اور ا س سے خشک اور بنجر زمین کو سیراب کر کے اسے سرسبز و شاداب بنا دیتا ہے ،یونہی ہواؤں  کی جو گردش ہے کہ کبھی جنوب کی طرف چلتی ہیں  اور کبھی شمال کی طرف، کبھی مشرق اور کبھی مغرب کی طرف چلتی ہیں ، کبھی گرم چلتی ہیں کبھی سرد ،کبھی نفع پہنچاتی ہیں  تو کبھی نقصان،ان سب چیزوں  اور ان کے