Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
207 - 764
{اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ: بیشک آسمانوں  اور زمین میں  نشانیاں  ہیں ۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے کائنات میں  موجود اپنی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرنے والی مختلف نشانیاں  بیان فرمائی ہیں  اور ان لوگوں  کے بارے میں  بتایا ہے جو ان نشانیوں  سے حقیقی طور پر فائدہ اٹھاتے ہیں  اور جنہیں  یہ نشانیاں  مفید ہو سکتی ہیں  ،چنانچہ یہاں  ارشاد فرمایا کہ بیشک آسمانوں  اور زمین کی تخلیق میں  اور ان میں  جو قدرت کے آثار پیدا کئے گئے ہیں  جیسے ستارے، پہاڑ اور دریا وغیرہ،ان میں  ایمان والوں  کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں  موجود ہیں ۔ یاد رہے کہ آسمان ، زمین اور ان میں  موجود چیزیں  اگرچہ تمام لوگوں  کے لئے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت کی نشانیاں  ہیں  لیکن چونکہ ان نشانیوں  سے نفع صرف مومن اٹھاتے ہیں  کہ وہ مخلوق سے اس کے خالق اور بنی ہوئی چیزوں  سے اس کے بنانے والے پر استدلال کرتے اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاتے ہیں ،اس لئے یہاں  خصوصیت کے ساتھ صرف انہیں  کا ذکر فرمایا گیا۔( روح البیان، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۸/۴۳۵، جلالین، الجاثیۃ، تحت الآیۃ: ۳، ص۴۱۳، ملتقطاً)
وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور تمہاری پیدائش میں  اور جو جو جانور وہ پھیلاتا ہے ان میں  نشانیاں  ہیں  یقین والوں  کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہاری پیدائش میں  اور جو جانور وہ (زمین میں )پھیلاتا ہے ان میں  یقین کرنے والوں  کے لیے نشانیاں  ہیں ۔
{وَ فِیْ خَلْقِكُمْ: اور تمہاری پیدائش میں ۔} یعنی اے لوگو! جس طرح تمہیں  پیدا کیا گیا کہ پہلے تم نطفہ کی صورت میں  تھے،پھر اسے خون بنایا گیا،پھر اس خون کو جما دیا گیا،پھر جمے ہوئے خون کو گوشت کا ٹکڑا بنا دیا گیا یہاں  تک کہ اسی ٹکڑے سے ذات اور بشری صفات میں  کامل انسان بنا دیا گیا، یونہی زمین کے مختلف حصوں  میں  پھیلائے گئے جانور جو کہ جدا جدا شکل و صورت والے ،الگ الگ اوصاف اور مزاج رکھنے والے ہیں  اور ان کی جنسیں  بھی مختلف ہیں  ،ان سب میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرنے والی نشانیاں  ہیں  کیونکہ انسانوں  اور جانوروں  میں  مُعَیَّن