آیتوں کا مذاق اڑانے والے اور ا س کی ہدایت کو نہ ماننے والے کو جہنم کے دردناک عذاب کی وعید سنائی گئی ۔
(3)… اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غورو فکر کرنے کی دعوت دی گئی ، مسلمانوں کی اخلاقی تربیت فرمائی گئی اور یہ بتایاگیا کہ جو نیک کام کرتا ہے تو ا س کا فائدہ اسی کی ذات کو ہو گا اور جوبرے کام کرتا ہے تو ان کاموں کا وبال بھی اسی پر ہے۔
(4)…بنی اسرائیل کو عطا کی جانے والی نعمتیں بیان کی گئیں اور یہ بتایا گیا کہ تورات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دین، حلال و حرام کے بیان اور تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کے معاملے کی روشن دلیلیں دیں لیکن انہوں نے سیِّدُ المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جلوہ افروزی کے بعد اپنے منصب اور ریاست ختم ہوجانے کے اندیشے کی وجہ سے آپ کے ساتھ حسد کیا اور دشمنی مول لی اور علم کے باوجود آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کے بارے میں اختلاف کیا۔
(5)…برے کام کرنے والوں کو بتایا گیا کہ وہ اچھے کام کرنے والوں جیسے نہیں اور ان کی زندگی اور موت برابر نہیں ہے،نیز کفار کے احوال اور ان کے گروہوں کے برے افعال بیان فرمائے گئے اور مُردوں کو دوبارہ زندہ کئے جانے پر دلائل دئیے گئے۔
(6)…اس سو رت کے آخر میں قیامت کے دن کی ہولناکیاں بیان کی گئیں نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں اور کفار کے انجام کے بارے میں بتایا گیا اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی بیان کی گئی۔
سورۂ دخان کے ساتھ مناسبت:
سورۂ جاثیہ کی اپنے سے ماقبل سورت ’’دخان‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورہ ٔ دخان کے آخر میں قرآنِ پاک کا تعارف بیان کیاگیا اور سورۂ جاثیہ کی ابتداء میں بھی قرآنِ مجید کا تعارف بیان ہوا۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں کائنات کی تخلیق سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور ا س کی وحدانیت پر استدلال کیاگیا ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔