Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
204 - 764
سورۂ جاثیہ
سورۂ جاثیہ کا تعارف
مقامِ نزول:
	 سورۂ جاثیہ اس آیت ’’قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا‘‘ کے علاوہ مکیہ ہے۔( جلالین، سورۃ الجاثیۃ، ص۴۱۳)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
	 اس سورت میں  4رکوع،37 آیتیں  ،488کلمے ، اور2191حروف ہیں ۔( خازن، تفسیر سورۃ الجاثیۃ، ۴/۱۱۷)

’’جاثیہ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	جاثیہ کا معنی ہے زانو کے بل گرا ہوا، اور اس سورت کی آیت نمبر28 میں  بیان کیا گیا کہ قیامت کی ہولناکیوں  کی شدت سے ہر امت زانو کے بل گری ہو گی،اس مناسبت سے اس کا نام سورۂ جاثیہ رکھا گیا۔
سورۂ جاثیہ کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے، حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کی تصدیق کرنے ،قرآنِ مجید کو اللہ تعالیٰ کا کلام تسلیم کرنے ،مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء و سزا ملنے کااعتراف کرنے کی دعوت دی گئی ہے،اور ا س سورت میں  یہ چیزیں  بیان ہوئی ہیں ۔
(1)…اس سورت کی بتداء میں  بتایا گیا کہ آسمانوں  اورزمینوں  میں ،انسانوں  کی تخلیق اور جانوروں  میں ، رات اور دن کی تبدیلیوں  میں ،آسمان سے بارش نازل کرکے بنجر زمین کوسرسبز و شاداب کرنے میں  اورہواؤں  کی گردش میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی نشانیاں  موجود ہیں  تو ان نشانیوں  کو جھٹلاکر مشرکین کونسی بات پر ایمان لائیں  گے۔
(2)… قرآنِ مجید کی آیتیں  سن کر ایمان لانے سے تکبر کرنے والے، اپنے کفر پر قائم رہنے والے اور قرآنِ مجید کی