میں اس طرح بے خوف ہو کر اپنے جنتی خادموں کو میوے حاضر کرنے کا حکم دیں گے کہ انہیں کسی قسم کا اندیشہ ہی نہ ہوگا، نہ میوے کم ہونے کا ،نہ ختم ہوجانے کا ،نہ نقصان پہنچانے کا ،نہ اور کوئی اندیشہ ہو گا۔وہ دنیا میں واقع ہونے والی پہلی موت کے سوا جنت میں پھر موت کا ذائقہ نہ چکھیں گے اور اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ نے آپ کے رب کے فضل سے انہیں آگ کے عذاب سے بچالیا اوراس سے نجات عطا فرمائی ، یہی بڑی کامیابی ہے۔( روح البیان، الدخان،تحت الآیۃ: ۵۱-۵۷، ۸/۴۲۸-۴۳۱، جلالین، الدخان، تحت الآیۃ: ۵۱-۵۷، ص۴۱۲، مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۵۱-۵۷، ص۱۱۱۴-۱۱۱۵، ملتقطاً)
فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ(۵۸)فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠(۵۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں آسان کیا کہ وہ سمجھیں ۔تو تم انتظار کرو وہ بھی کسی انتظار میں ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں آسان کردیاتا کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔تو تم انتظار کرو، بیشک وہ بھی انتظار کررہے ہیں ۔
{فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ: تو ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں آسان کردیا۔ } اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان عربی میں نازل فرما کر اس لئے آسان کردیاتا کہ آپ کی قوم کے لوگ اسے سمجھیں اور اس سے نصیحت حاصل کریں اور ا س کے احکامات پر عمل کریں۔اگر وہ ایسا نہ کریں تو آپ ان کی ہلاکت اور ان پر آنے والے عذاب کاانتظار کریں ، بے شک وہ بھی آپ کی وفات کا انتظار کر رہے ہیں ۔( روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۵۸-۵۹، ۸/۴۳۳، خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۵۸-۵۹، ۴/۱۱۷، ملتقطاً)