اور ارشاد فرمایا:
’’ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ(۵۱) لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ(۵۲) فَمَالِــٴُـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ(۵۳) فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ(۵۴) فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ(۵۵) هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ‘‘(واقعہ:۵۱-۵۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر اے گمراہو، جھٹلانے والو! بیشک تم۔ضرور زقوم (نام)کے درخت میں سے کھاؤ گے۔پھر تم اس سے پیٹ بھرو گے۔پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے۔تو ایسے پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پیتے ہیں ۔انصاف کے دن یہ ان کی مہمانی ہے۔
اورحضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کی زندگانی خراب ہوجائے تو اس شخص کا کیا حال ہو گا جس کا کھانا ہی یہ ہو گا۔‘‘ (ترمذی، کتاب صفۃ جہنّم، باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النّار، ۴/۲۶۳، الحدیث: ۲۵۹۴)
اللہ تعالیٰ ہمارا ایمان سلامت رکھے اور ہمیں جہنم کے اس بدترین عذاب سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔
خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ(۴۷) ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ(۴۸)
ترجمۂکنزالایمان: اسے پکڑو ٹھیک بھڑکتی آگ کی طرف بزور گھسیٹتے لے جاؤ۔ پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے پانی کا عذاب ڈالو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اسے پکڑوپھر سختی کے ساتھ اسے بھڑکتی آگ کے درمیان کی طرف گھسیٹتے لے جاؤ۔پھر اس کے سر کے اوپر کھولتے پانی کا عذاب ڈالو ۔
{خُذُوْهُ: اسے پکڑو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ(حساب و کتاب کے بعد) جہنم کے فرشتوں