اور اپنے دوستوں یعنی ایمان والوں پر مہربان ہے ۔( خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۱-۴۲، ۴/۱۱۶، جمل، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۱-۴۲، ۷/۱۳۰، ملتقطاً)
اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ(۴۳) طَعَامُ الْاَثِیْمِ ﳝ (۴۴)كَالْمُهْلِۚۛ-یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ(۴۵)كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ(۴۶)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تھوہڑ کا پیڑ۔گنہگاروں کی خوراک ہے۔گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارے۔ جیسا کھولتا پانی جوش مارے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک زقوم کادرخت۔ گناہگار کی خوراک ہے۔گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارتا ہوگا۔ جیسا کھولتا ہواپانی جوش مارتا ہے۔
{اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ: بیشک زقوم کادرخت۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک جہنم کا کانٹے دار اور انتہائی کڑوازقوم نام کادرخت بڑے گناہگار یعنی کافر کی خوراک ہے اور جہنمی زقوم کی کیفیت یہ ہے کہ گلے ہوئے تانبے کی طرح کفار کے پیٹوں میں ایسے جوش مارتاہوگا جیسے کھولتا ہواپانی جوش مارتا ہے۔( ابو سعود، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۳-۴۶، ۵/۵۶۰، جلالین، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۳-۴۶، ص۴۱۲، ملتقطاً)
جہنمی درخت زقوم کا وصف:
زقوم نامی درخت کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُ جُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ(۶۴) طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ(۶۵) فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِــٴُـوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَ‘‘(صافات:۶۴-۶۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔اس کا شگوفہ ایسے ہے جیسے شیطانوں کے سرہوں ۔پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے پھر اس سے پیٹ بھریں گے۔