Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
201 - 764
 کو حکم دیا جائے گا کہ اس گناہگار کو پکڑو ،پھر سختی کے ساتھ اسے بھڑکتی آگ کے درمیان کی طرف گھسیٹتے ہوئے لے جاؤ، پھر اس کے سر کے اوپر کھولتا ہوا پانی ڈالو تاکہ اس کی شدت سے اسے عذاب پہنچے۔ (جلالین، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸، ص۴۱۲، مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۷-۴۸، ص۱۱۱۴، ملتقطاً)
	نوٹ:جہنم کے کھولتے ہوئے پانی کی کیفیت کے بارے میں  جاننے کے لئے سورہِ حج کی آیت نمبر19اور 20کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ۔
ذُقْ ﳐ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ(۴۹)اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ(۵۰)
ترجمۂکنزالایمان: چکھ ہاں  ہاں  تو ہی بڑا عزت والا کرم والا ہے۔ بیشک یہ ہے وہ جس میں  تم شبہ کرتے تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: چکھ۔ تو تَوبڑا عزت والا، کرم والا ہے۔بیشک یہ وہ ہے جس میں  تم شک کرتے تھے۔
{ذُقْ: چکھ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اس جہنمی کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا تو اس وقت ا س کی تذلیل اور توہین کرتے ہوئے اس سے کہا جائے گا: اس ذلت اور اِہانت والے عذاب کوچکھ، تواپنے گمان میں  اپنی قوم کے نزدیک بڑا عزت والا کرم والا ہے، تو یہ تیری تعظیم ہو رہی ہے ۔ مفسرین فرماتے ہیں  :ابو جہل نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے کہا:مکہ کے ان دو پہاڑوں  کے درمیان مجھ سے زیادہ عزت والا اور کرم والا کوئی نہیں  تو خدا کی قسم! آپ اور آپ کا رب میرا کچھ نہیں  بگاڑ سکتے۔اس کے لئے وعید کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی اور اسے عذاب کے وقت یہ طعنہ دیا جائے گا۔
	 اگلی آیت میں  فرمایا گیا کہ کفار سے یہ بھی کہا جائے گا: بیشک جو عذاب تم دیکھ رہے ہو یہ وہ عذاب ہے جس میں  تم شک کرتے تھے اور اس پر ایمان نہیں  لاتے تھے۔( روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰، ۸/۴۲۸، خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۹-۵۰، ۴/۱۱۶، ملتقطاً)
اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ(۵۱) فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ(۵۲) یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ(۵۳) كَذٰلِكَ- وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ(۵۴)