ان کے درمیان ہے سب کوحق کے ساتھ ہی بنایا تاکہ لوگوں کو فرمانبرداری کرنے پر ثواب دیں اور نافرمانی کرنے پر عذاب کریں لیکن کفارِ مکہ میں سے اکثر لوگ غفلت اور غورو فکر نہ کرنے کے باعث جانتے نہیں کہ آسمان و زمین پید اکرنے کی حکمت یہ ہے اور حکیم کا کوئی فعل بیکار نہیں ہوتا۔( خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۹، ۴/۱۱۶، روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۹، ۸/۴۲۳، ملتقطاً)
اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۴۰) یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْــٴًـا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ(۴۱) اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠(۴۲)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک فیصلہ کا دن ان سب کی میعاد ہے۔ جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد ہوگی۔ مگر جس پر اللہ رحم کرے بیشک وہی عزت والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک فیصلے کا دن ان سب کا مقرر کیا ہوا وقت ہے۔جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گااور نہ ان کی مددکی جائے گی ۔مگر جس پر اللہ مہربانی فرمائے ،بیشک وہی عزت والا، مہربان ہے۔
{اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ: بیشک فیصلے کا دن۔} یعنی قیامت کا دن جس میں اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اپنے بندوں میں فیصلہ فرمائے گا، وہ ان سب کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کیلئے مقرر کیا ہوا وقت ہے اور ا س دن اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں سب کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔( خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۰، ۴/۱۱۶، مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۱۱۱۳، ملتقطاً)
{یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْــٴًـا: جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا۔ } اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کا دن ایسا ہے کہ اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور رشتے داری اور محبت نفع نہ دے گی اور نہ ان کافروں کی مددکی جائے گی البتہ مومنین اللہ تعالیٰ کے اذن سے ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے ۔بے شک وہی اللہ عَزَّوَجَلَّ عزت والا اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں غلبے والا ہے