Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
193 - 764
مذکور ہے۔‘‘ (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الدخان، ۵/۱۷۱، الحدیث: ۳۲۶۶)
	اورامام مجاہد رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے کہا گیا کہ کیا مومن کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں ؟ آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے فرمایا :زمین اس بندے پر کیوں  نہ روئے جو زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا اور آسمان اس بندے پر کیوں  نہ روئے جس کی تسبیح و تکبیر آسمان میں  پہنچتی تھی۔ (خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۹، ۴/۱۱۴)
	بعض مفسرین کے نزدیک زمین و آسمان خود نہیں  روتے بلکہ یہاں ان کے رونے سے مراد آسمان اور زمین والوں  کا رونا ہے جیسا کہ حضرت حسن رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کا قول ہے کہ(زمین و آسمان کے رونے سے مراد یہ ہے کہ ) آسمان والے اور زمین والے روتے ہیں ۔( مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۱۱۱۲)
وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ(۳۰) مِنْ فِرْعَوْنَؕ-اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ(۳۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات بخشی۔فرعون سے بیشک وہ متکبر حد سے بڑھنے والوں میں  سے تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کن عذاب سے نجات بخشی۔فرعون سے، بیشک وہ متکبر، حد سے بڑھنے والوں  میں سے تھا۔
{وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ: اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو نجات بخشی۔} اس سے پہلی آیات میں  فرعون کی ہلاکت کی کیفیت بیان کی گئی اور ان آیات میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم پر کئے گئے احسانات کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے۔چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک ہم نے بنی اسرائیل