Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
194 - 764
کو اس رُسو اکُن عذاب سے نجات بخشی جو انہیں  فرعون کی طرف سے غلامی ،مشقّت سے بھرپور خدمتوں ، محنتوں  اور اولاد کے قتل کئے جانے کی صورت میں  پہنچتا تھا۔ بیشک فرعون متکبر اورحد سے بڑھنے والوں  میں سے تھا۔( تفسیرکبیر، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱، ۹/۶۶۱، ، روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱، ۸/۴۱۴، ملتقطاً)
وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ(۳۲) وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ(۳۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے اُنہیں  دانستہ چن لیا اس زمانہ والوں  سے۔ اورہم نے اُنہیں  وہ نشانیاں  عطا فرمائیں  جن میں  صریح انعام تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے انہیں جانتے ہوئے اس زمانے والوں  پر چن لیا۔اورہم نے انہیں  وہ نشانیاں  عطا فرمائیں  جن میں  واضح انعام تھا۔
{وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ: اور بیشک ہم نے انہیں  جانتے ہوئے چن لیا۔} ارشاد فرمایا کہ(بنی اسرائیل پر ہم نے ایک احسان یہ کیا کہ) ہم نے اپنے علم کی بنا پر بنی اسرائیل کو اس زمانے میں  تمام جہان والوں  پر چُن لیا۔( مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۲، ص۱۱۱۲)
	یاد رہے کہ اس آیت سے یہ لازم نہیں  آتا کہ بنی اسرائیل حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت سے بھی افضل ہیں  کیونکہ بنی اسرائیل کا افضل ہونااپنے زمانے کے اعتبار سے ہے۔
{وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ: اورہم نے انہیں  نشانیاں  عطا فرمائیں ۔} ارشاد فرمایا کہ (بنی اسرائیل پر ہم نے ایک احسان یہ کیا کہ) ہم نے انہیں  وہ نشانیاں  عطا فرمائیں  جن میں  واضح انعام تھا جیسے ان کے لئے دریا میں  خشک راستے بنائے، بادل کو سائبان کیا، مَنّ و سَلویٰ اتارا اوراس کے علاوہ اور نعمتیں  دیں ۔( خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۳۳، ۴/۱۱۵)