Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
192 - 764
’’وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَاؕ-وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ بِمَا صَبَرُوْاؕ-وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ‘‘(اعراف:۱۳۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے اس قوم کو جسے دبایا گیا تھا اُس زمین کے مشرقوں  اور مغربوں  کا مالک بنادیا جس میں  ہم  نے برکت رکھی تھی اور بنی اسرائیل پر ان کے صبر کے بدلے میں تیرے رب کا اچھا وعدہ پورا ہوگیااور ہم نے وہ سب تعمیرات برباد کردیں  جو فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی اور وہ  عمارتیں جنہیں وہ بلند کرتے تھے۔ 
فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠(۲۹)
ترجمۂکنزالایمان: تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں  مہلت نہ دی گئی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں  مہلت نہ دی گئی۔
{فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ: تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے۔ } ارشاد فرمایا کہ فرعون اور ا س کی قوم پر آسمان اور زمین نہ روئے کیونکہ وہ ایماندار نہ تھے اور انہیں  عذاب میں  گرفتار کرنے کے بعدتوبہ وغیرہ کے لئے مہلت نہ دی گئی۔( مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۱۱۱۲، خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۹، ۴/۱۱۴، ملتقطاً)
مومن کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں :
 	یاد رہے کہ جب کسی مومن کا انتقال ہوتا ہے تو اس پر آسمان و زمین روتے ہیں  جیسا کہ حضرت انس بن مالک  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ہر مومن کے لئے دو دروازے ہیں  ،ایک سے اعمال اوپر کی طرف چڑھتے ہیں  اور دوسرے سے اس کا رزق اترتا ہے۔جب وہ مرتا ہے تو دونوں  ا س پر روتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے ا س فرمان’’فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ‘‘میں  یہی