سے مُطّلع فرما دیا تھا اور یہ سب چیزیں ان پانچ علوم میں سے ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے،معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں کو علومِ خمسہ سے بھی نوازتا ہے۔
كَذٰلِكَ- وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ(۲۸)
ترجمۂکنزالایمان: ہم نے یونہی کیا اور ان کا وارث دوسری قوم کو کردیا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہم نے یونہی کیا اور ان چیزوں کا دوسری قوم کو وارث بنادیا۔
{كَذٰلِكَ: ہم نے یونہی کیا۔} یعنی ہم نے فرعون اور ا س کی قوم کے ساتھ اسی طرح کیا کہ ان کا تمام مال و متاع سلب کر لیا اور ان چیزوں کا دوسری قوم یعنی بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا جو ان کے ہم مذہب تھے نہ رشتہ دار اور نہ دوست تھے۔( روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۸، ۸/۴۱۲، ملخصاً)
آیت ’’ كَذٰلِكَ- وَ اَوْرَثْنٰهَا‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)… کفارکی بستیوں اور ان کے مکانات میں رہنا منع نہیں ، ہاں جہاں عذابِ الٰہی آیا ہو وہاں رہنا منع ہے اور چونکہ فرعون کی قوم پر مصر میں عذاب نہ آیا بلکہ انہیں وہاں سے نکال کر دریا میں غرق کیا گیا لہٰذا مصر میں رہنا درست ہوا ۔
(2)… فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد مصر میں خود بنی اسرائیل آباد ہوئے تھے۔اس کی تائید قرآنِ پاک کی ان آیات سے بھی ہوتی ہے،چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا:
’’ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ‘‘(اعراف:۱۲۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے گاپھروہ دیکھے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔
اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: