تمہیں قتل کر دے، چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام روانہ ہوئے اور دریا پر پہنچ کر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عصا مارا تو دریا میں بارہ خشک راستے پیدا ہوگئے اور آپ بنی اسرائیل کے ساتھ دریا میں سے گزر گئے۔( روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۳، ۸/۴۱۱)
وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًاؕ-اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ(۲۴)كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۲۵) وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ(۲۶) وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور دریا کو یونہی جگہ جگہ سے کھلاچھوڑ دے بیشک وہ لشکر ڈبو یا جائے گا۔کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے۔ او رکھیت اور عمدہ مکانات ۔اور نعمتیں جن میں فارغُ الْبال تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور دریا کو جگہ جگہ سے کھلا ہواچھوڑ دو بیشک وہ لشکر غرق کر دیا جائے گا ۔وہ کتنے باغ اور چشمے چھوڑ گئے۔ او رکھیت اور عمدہ مکانات۔ اور نعمتیں جن میں وہ عیش کرنے والے تھے۔
{وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا: اور دریا کو جگہ جگہ سے کھلا ہواچھوڑ دو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پیچھے فرعون اور اس کا لشکر آرہا تھا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چاہا کہ پھرعصا مار کر دریا کو ملادیں تاکہ فرعون اس میں سے گزر نہ سکے تو آپ کو حکم ہوا: دریا کو جگہ جگہ سے گزرنے کیلئے کھلا ہواچھوڑ دو تاکہ فرعونی ان راستوں سے دریا میں داخل ہوجائیں ، بیشک وہ لشکر غرق کر دیا جائے گا۔یہ حکم سن کرحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اطمینان ہوگیا اور جب فرعون اور اس کے لشکر دریامیں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے دریا کے پانی کو ملا دیا جس سے وہ سب غرق ہوگئے اور وہ کتنے باغ ، چشمے، کھیت،آراستہ و پیراستہ عمدہ مکانات، اور وہ نعمتیں جن میں وہ عیش کرنے والے تھے، چھوڑ گئے الغرض ان کا تمام مال و متاع اور سامان یہیں رہ گیا۔( مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۴-۲۷، ص۱۱۱۲، جلالین، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۴-۲۷، ص۴۱۱، روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۴-۲۷، ۸/۴۱۱-۴۱۲، ملتقطاً)
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرعونیوں کی موت کے وقت ، جگہ اور کیفیت