Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
189 - 764
مجھ پر یقین نہ کرو تو مجھ سے الگ ہوجاؤ ۔
{وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ: اور میں  نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لی۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ فرمایا تو فرعونیوں  نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کی دھمکی دی اور کہا کہ ہم تمہیں  سنگسار کردیں  گے۔اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ میرا تو کل اور اعتماد اس پر ہے جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، مجھے تمہاری دھمکی کی کچھ پروا نہیں  ،اللہ تعالیٰ مجھے بچانے والا ہے اور اگر تم میری تصدیق نہیں  کرتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ اور مجھے ایذا پہنچانے کی کوشش نہ کرو ۔( مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱، ص۱۱۱۱، جلالین، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱، ص۴۱۱، ملتقطاً)
فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ(۲۲)فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ(۲۳)
ترجمۂکنزالایمان: تو اُس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں ۔ہم نے حکم فرمایا کہ میرے بندوں کو راتوں  رات لے نکل ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں ۔تو(ہم نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں  رات لے کر نکل جاؤ،ضرور تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔
{فَدَعَا رَبَّهٗۤ: تو اس نے اپنے رب سے دعا کی۔} فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اس بات کو بھی نہ مانا اور انہیں  جھٹلایاتو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ قبطی مشرک لوگ ہیں  اور اپنے کفر پر قائم ہیں  اور تو ان کا حال بہتر جانتا ہے، اس لئے جس چیز کے وہ مستحق ہیں  تو ان کے ساتھ وہ فرما۔( جلالین، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۲، ص۴۱۱، روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۲۲، ۸/۴۱۱، ملتقطاً)
{فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا: تو میرے بندوں کو راتوں  رات لے کر نکل جاؤ۔} جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی اور انہیں  حکم فرمایا کہ جب دشمن غافل ہو تو بنی اسرائیل کو راتوں  رات لے کر مصر سے نکل جاؤ، جب فرعون کو تمہارے نکل جانے کی خبر ملے گی تو وہ اپنے لشکروں  کے ساتھ تمہارا پیچھا کرے گا تاکہ