پاس آئے تو اس سے فرمایا: بنی اسرائیل کو میرے حوالے کردو اور تم جو شدتیں اور سختیاں ان پر کرتے ہو اس سے انہیں رہائی دو ،بیشک میں تمہارے لیے وحی پر امانت والا، رسول ہوں ۔
نوٹ:حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ واقعہ سورۂ طہٰ کی آیت نمبر47میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔
وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِۚ-اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور اللہ کے مقابل سرکشی نہ کرو میں تمہارے پاس ایک روشن سند لاتا ہوں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔بیشک میں تمہارے پاس روشن دلیل لاتا ہوں ۔
{وَ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ: اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون سے فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی وحی،اس کے رسول اور اس کے بندوں کی توہین کر کے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، بیشک میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات کی صورت میں اپنی نبوت اور رسالت کی سچائی کی روشن دلیل لاتا ہوں جس کا انکار کرنے کی کوئی صورت نہیں ۔( روح البیان، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۹، ۸/۴۱۰، مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۱۱۱، ملتقطاً)
وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘(۲۰) وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ(۲۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور میں پناہ لیتا ہوں اپنے رب اور تمہارے رب کی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو ۔اور اگر تم میرا یقین نہ لاؤ تو مجھ سے کنارے ہوجاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں نے اس بات سے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لی کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ اور اگر تم