پھر ان کفار کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا:
’’لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ‘‘(نحل:۱۰۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس آدمی کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ قرآن روشن عربی زبان میں ہے۔
کبھی یہ کہتے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے اپنی طرف سے بنا لیا ہے ، جیسا کہ سورۂ فرقان میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ ﰳافْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافروں نے کہا: یہ قرآن تو صرف ایک بڑا جھوٹ ہے جو انہوں نے خود بنالیا ہے اور اس پردوسرے لوگوں نے (بھی) ان کی مدد کی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
’’فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًا‘‘(فرقان:۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: توبیشک وہ (کافر) ظلم اور جھوٹ پرآگئے ہیں ۔
اور کبھی یہ دعویٰ کرتے کہ قرآن پہلے لوگوں کی کہانیوں پر مشتمل ایک کتاب ہے۔جیسا کہ سورۂ فرقان ہی میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا‘‘(فرقان:۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورکافروں نے کہا: (یہ قرآن)پہلےلوگوں کی کہانیاں ہیں جو اس(نبی) نے کسی سے لکھوا لی ہیں تویہی ان پر صبح و شام پڑھی جاتی ہیں ۔
اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآىٕدُوْنَۘ(۱۵)