ترجمۂکنزالایمان: ہم کچھ دنوں کو عذاب کھولے دیتے ہیں تم پھر وہی کرو گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہم کچھ دنوں کیلئے عذاب دور کرنے والے ہیں ۔ بیشک تم پھر لَوٹنے والے ہو۔
{اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا: ہم کچھ دنوں کیلئے عذاب دور کرنے والے ہیں ۔} اس آیت میں کفارِ مکہ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جیسے ہی ہم تم سے کچھ دنوں کے لئے عذاب دور کردیں گے تم پھر اسی شرک کی طرف لوٹ جاؤ گے جس پر اس سے پہلے قائم تھے ۔اس سے مقصود یہ تنبیہ کرنا ہے کہ وہ لوگ اپنے عہد کو پورا نہیں کریں گے کیونکہ ان کا حال یہ ہے کہ جب کسی مصیبت کی وجہ عاجز ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں گڑگڑاتے ہیں اور جب ان کا خوف اور مصیبت دور ہو جاتی ہے تو اپنے کفر اور آباء واَجداد کی اندھی پیروی کی طرف پلٹ جاتے ہیں ۔( تفسیرکبیر، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۵، ۹/۶۵۸، ملخصاً)
چنانچہ حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صدقے ان کی مصیبت دور ہو جانے کے بعد ایسا ہی ہو اکہ وہ لوگ ایمان نہ لائے اور اپنے شرک و کفر پر ہی قائم رہے۔
یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰىۚ-اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن کو یاد کروجب ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے۔بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں ۔
{یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى: اس دن کو یاد کروجب ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے۔} یعنی اے مشرکو!اگر میں تم پر نازل ہونے والا وہ عذاب دور کر دوں جس نے تمہیں بے حال کر دیا ہے،اس کے بعد پھر تم کفر کی طرف لوٹ جاؤ اور اپنے رب سے کیا ہوا عہد توڑ دو تو میں تم سے اس دن بدلہ لوں گا جب تمہیں بڑی پکڑ کے ساتھ پکڑوں گا۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے یا غزوۂ بدر کا دن مراد ہے۔( تفسیرطبری، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۶، ۱۱/۲۳۰، مدارک، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۱۱۱۱، ملتقطاً)