Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
184 - 764
ترجمۂکنزالایمان: کہاں  سے ہو انہیں  نصیحت ماننا حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لاچکا۔ پھراس سے روگرداں  ہوئے اور بولے سکھایا ہوا دیوانہ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان کیلئے نصیحت ماننا کہاں ہوگا؟ حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لاچکا۔ پھر وہ اس سے منہ پھیر گئے اور کہنے لگے:یہ تو سکھایا ہواایک دیوانہ ہے۔ 
{اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى: ان کیلئے نصیحت ماننا کہاں ہوگا؟} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ان سے عذاب دور کر دیا جائے تو بھی یہ کہاں  ایمان لائیں  گے حالانکہ یہ اس سے بڑی بڑی وہ علامات دیکھ چکے ہیں  جن سے نصیحت حاصل کر کے ایمان قبول کر سکتے تھے اور وہ علامات یہ ہیں  کہ ان کے پاس ایک عظیم الشّان رسول تشریف لایا اوراس نے ان کے سامنے روشن آیات اور ایسے مضبوط معجزات کے ذریعے حق کے راستوں  کو واضح کیا کہ انہیں  دیکھ کر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سَرک جائیں  لیکن میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے پیش کی گئی روشن آیات اور مضبوط معجزات دیکھ کر بھی یہ لوگ ان سے منہ پھیر گئے او ر صرف منہ پھیرنے کو ہی کافی نہیں  سمجھا بلکہ ان کے متعلق یہ اِفتِراء بھی کرنے لگے کہ یہ تو کسی آدمی کی طرف سے سکھایا ہوا ہے اور دیوانہ ہے جسے وحی کی غشی طاری ہونے کے وقت جنات یہ کلمات تلقین کرجاتے ہیں ۔ (ابوسعود،الدخان،تحت الآیۃ:۱۳-۱۴، ۵/۵۵۶، تفسیرکبیر، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴، ۹/۶۵۷-۶۵۸، ملتقطاً)
قرآنِ پاک کی حقانیت دیکھ کر کفار کا حال:
	قرآنِ مجیدکی حقانیت دیکھ کر کفار بہت زیادہ بوکھلا گئے تھے ،اسی وجہ سے وہ قرآنِ کریم سے لوگوں  کو بہکانے کیلئے کبھی کچھ کہتے اور کبھی کچھ ،جیسے کبھی وہ یہ دعویٰ کرتے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کسی آدمی نے سکھایا ہے ،جیسا کہ سورۂ نحل میں  ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ہم جانتے ہیں  کہ وہ کافر کہتے ہیں :اس نبی کو ایک آدمی سکھاتا ہے۔