نظر اٹھاتے اورآسمان کی طرف دیکھتے تو ان کو دھواں ہی دھواں معلوم ہوتا ،یعنی ایک توکمزوری کی وجہ سے انہیں نگاہوں کے سامنے اندھیرا محسوس ہوتا اور دوسرا قحط سے زمین خشک ہوگئی ،اس سے خاک اڑنے لگی اورغبار نے ہوا کو ایسا گدلا کردیاکہ انہیں آسمان دھوئیں کی طرح محسوس ہوتا۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ یہاں دھوئیں سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کی علامات میں سے ہے اور قیامت کے قریب ظاہر ہوگا ،اس سے مشرق و مغرب بھر جائیں گے، چالیس دن اور رات رہے گا،اس سے مومن کی حالت تو ایسے ہوجائے گی جیسے زکام ہوجائے جبکہ کافر مدہوش ہوجائیں گے، ان کے نتھنوں ، کانوں اور بدن کے سوراخوں سے دھواں نکلے گا۔( خازن، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱، ۴/۱۱۳، جمل، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱، ۷/۱۱۸-۱۱۹، ملتقطاً)
رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: اس دن کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (اس دن کہیں گے) اے ہمارے رب!ہم سے عذاب دور کردے، ہم ایمان لاتے ہیں ۔
{رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ: اے ہمارے رب!ہم سے عذاب دور کردے۔} یعنی جس دن وہ دھواں لوگوں کو ڈھانپ لے گا اس دن وہ کہیں گے :یہ ایک دردناک عذاب ہے، اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ ،ہم سے عذاب دور کردے، ہم ایمان لاتے ہیں اور تیرے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اور قرآن پاک کی تصدیق کرتے ہیں ،چنانچہ اس قحط سالی سے تنگ آکر ابو سفیان حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ دعا فرمائیں اگر قحط دورہو گیا تو ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئیں گے۔( تفسیرکبیر، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۲، ۹/۶۵۷، روح المعانی، الدخان، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۳/۱۶۴، ملتقطاً)
اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ(۱۳) ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ(۱۴)