Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
182 - 764
ہونے اور عبادت کئے جانے کے لائق ہے۔( تفسیر طبری، الدخان، تحت الآیۃ: ۸، ۱۱/۲۲۴)
{بَلْ هُمْ: بلکہ وہ کافر۔} یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے جودلائل ذکر کئے گئے ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ کفاراس کی وحدانیت  کو مان لیتے لیکن یہ پھر بھی نہیں  مانتے بلکہ وہ اس کی طرف سے شک میں  پڑے اور دنیا کے کھیل کود میں  مصروف ہیں  اورانہیں  اپنی آخرت کی کوئی فکر ہی نہیں ۔ 
فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ(۱۰) یَّغْشَى النَّاسَؕ-هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں  لائے گا۔ کہ لوگوں  کو ڈھانپ لے گا یہ ہے دردناک عذاب۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں  لائے گا۔جولوگوں  کو ڈھانپ لے گا۔یہ ایک دردناک عذاب ہے ۔
{فَارْتَقِبْ: تو تم منتظر رہو۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے اسلام کی دعوت ملنے پر کفارِ قریش آپ کو جھٹلاتے ،آپ کی نافرمانی کرتے اور آپ کا مذاق اڑاتے،اس بناپر رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے خلاف دعا کی کہ ’’یارب! انہیں  ایسے سات سالہ قحط کی مصیبت میں  مبتلا کر جیسے سات سال کا قحط حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں  بھیجا تھا۔ ‘‘یہ دعا قبول ہوئی اورسرکارِ دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا گیا’’اے حبیب!  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان کافروں  کیلئے اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں  لائے گا جولوگوں  کو ڈھانپ لے گا ۔‘‘ چنانچہ قریش پر قحط سالی آئی اور یہاں  تک اس کی شدت ہوئی کہ وہ لوگ مردار کھا گئے اور بھوک سے اس حال کو پہنچ گئے کہ جب اوپر کو