برے لوگوں کو ان کے برے اعمال کی سزا دے گا۔( تفسیرطبری، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۸۵، ۱۱/۲۱۸)
وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۸۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے ہاں شفاعت کا اختیار اُنہیں ہے جو حق کی گواہی دیں اور علم رکھیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورکفار جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے۔ ہاں (شفاعت کا اختیار انہیں ہے) جو حق کی گواہی دیں اور علم رکھیں ۔
{وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ: اورکفار جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ کفار اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن فرشتوں اور حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عبادت کرتے ہیں وہ صرف انہی کی شفاعت کریں گے جو زبان سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کی گواہی دیں اور دل سے اس گواہی کا علم رکھیں ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کے معبود ان کی شفاعت کریں گے حالانکہ وہ تمام چیزیں جن کی کفار اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کرتے ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتی البتہ شفاعت کا اختیار انہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیّتکی گواہی دیں اور دل سے اس بات کا علم رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا رب ہے ،ایسے مقبول بندے ایمان داروں کی شفاعت کریں گے۔( تفسیرکبیر ، الزّخرف ، تحت الآیۃ: ۸۶، ۹/۶۴۸، مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۸۶، ص۱۱۰۷، جلالین، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۸۶، ص۴۱۰، ملتقطاً)
وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ(۸۷)