ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی آسمان والوں کامعبود ہے اور زمین والوں کامعبود ہے اور وہی حکمت والا، علم والا ہے۔
{وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ: اور وہی آسمان والوں کامعبود ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اللہ وہی ہے جو آسمان والوں کامعبود ہے اور زمین والوں کامعبود ہے،اس کے علاوہ اور کوئی چیز معبود ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی، لہٰذا جو آسمان اور زمین والوں کا معبود ہے تم صرف اسی کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ،وہ اپنی مخلوق کے معاملات کا انتظام فرمانے میں حکمت والا ہے اور ان کی ضروریات سے با خبر ہے۔( تفسیرطبری، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۸۴، ۱۱/۲۱۷-۲۱۸)
وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَاۚ-وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِۚ-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۸۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور بڑی برکت والا ہے وہ کہ اسی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم اور تمہیں اسی کی طرف پھرنا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ (اللہ) بڑی برکت والا ہے جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی بادشاہی ہے اور قیامت کا علم اسی کے پاس ہے اور تمہیں اس کی طرف پھرناہے۔
{وَ تَبٰرَكَ: اور وہ بڑی برکت والا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ وہ اللہ بڑی برکت والا ہے جس کے لئے ساتوں آسمانوں ، زمینوں اور ان کے درمیان تمام چیزوں کی بادشاہی ہے،ان سب پر اس کا حکم جاری ہے اور ان سب میں اس کی قضا نافذ ہے تو جسے ان کی بادشاہی حاصل ہے اور جس کا حکم ان میں نافذ ہے ا س کا کوئی شریک کس طرح ہو سکتا ہے اور اس وقت کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جس میں قیامت قائم ہو گی اور مخلوق اپنی قبروں سے حساب کے مقام پر جمع کی جائے گی اور اے لوگو! تم مرنے کے بعد اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ نیک لوگوں کو ان کے نیک اعمال کی جزاء اور