کیونکہ اس کے لئے اولاد ہی محال ہے۔ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ نضر بن حارث نے کہا تھا: فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو نضر کہنے لگا: تم دیکھ لو قرآن میں میری تصدیق آگئی ہے۔ ولید نے اس سے کہا: تیری تصدیق نہیں ہوئی بلکہ اس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ رحمن کی اولاد نہیں ہے۔( مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۸۱، ص۱۱۰۷)
سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ(۸۲) فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ(۸۳)
ترجمۂکنزالایمان: پاکی ہے آسمانوں اور زمین کے رب کو عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں ۔ تو تم انہیں چھوڑو کہ بیہودہ باتیں کریں اور کھیلیں یہاں تک کہ اپنے اُس دن کو پائیں جس کا اُن سے وعدہ ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: آسمانوں اور زمین کا رب ، عرش کا مالک ان باتوں سے پاک ہے جوکافر بیان کرتے ہیں ۔ تو تم انہیں چھوڑدو کہ بیہودہ باتیں کریں اور کھیلیں یہا ں تک کہ اپنے اس دن کو پائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔
{فَذَرْهُمْ: تو تم انہیں چھوڑدو۔} یعنی اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں نے کفار کا نظرِیَّہ باطل ہونے پر قطعی دلیل بیان کر دی لیکن وہ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے کیونکہ وہ مال،منصب اور حکومت کی طلب میں ڈوبے ہوئے ہیں ، اس لئے آپ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں کہ جس لَغْوْ اور باطل کام میں لگے ہوئے ہیں اسی میں پڑے رہیں ، یہاں تک کہ وہ اپنے ا س دن کو پالیں جس میں انہیں عذاب دینے کا وعدہ کیا گیا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے۔( تفسیرکبیر، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۸۳، ۹/۶۴۷)
وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌؕ-وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ(۸۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہی آسمان والوں کا خدا اور زمین والوں کا خدا اور وہی حکمت و علم والا ہے۔