Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
169 - 764
{اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ: کیا وہ یہ سمجھتے ہیں  کہ ہم ان کی آہستہ بات اور ان کی خفیہ مشاورت نہیں  سنتے؟} یعنی کیا کفار یہ سمجھتے ہیں  کہ ہم ان کی آہستہ بات اور ان کی خفیہ مُشاوَرَت نہیں  سنتے؟ ہاں ، کیوں  نہیں ؟ ہم ضرور سنتے ہیں  اور پوشیدہ ظاہر ہر بات جانتے ہیں ، ہم سے کچھ نہیں  چھپ سکتا اور ہمارے فرشتے ان کے پاس ان کے تمام اَقوال اور اَفعال کو لکھ رہے ہیں ،اس میں  ان کی آہستہ باتیں  اور خفیہ مشاورتیں  سب شامل ہیں  اور جب کوئی خفیہ بات فرشتوں  سے پوشیدہ نہیں  تو ظاہری و باطنی تمام چیزوں  کو جاننے والے رب تعالیٰ سے کیسے چھپ سکتی ہے۔( روح البیان، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۸۰، ۸/۳۹۵)
تنہائی میں  گناہ کرنے والے اللہ تعالیٰ سے ڈریں : 
	اس آیت میں  ان لوگوں  کے لئے بھی نصیحت ہے جو لوگوں  کے سامنے گناہ کرتے ہوئے توخوف محسوس کرتے ہیں  لیکن تنہائی میں  گناہ کرتے ہوئے اس رب تعالیٰ سے نہیں  ڈرتے جو ان کے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور ان کے باطن سے بھی خبردار ہے۔حضرت یحییٰ بن معاذ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’جس نے لوگوں  سے تو اپنے گناہوں  کو چھپایا اور اس ذات کے سامنے ظاہر کیا جس سے کوئی خفیہ چیز پوشیدہ نہیں  تو اس نے اپنے نزدیک ا س ذات کو دیکھنے والوں  میں  سب سے ہلکا سمجھا اور یہ منافقت کی نشانی ہے۔( مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۸۰، ص۱۱۰۶)
قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ ﳓ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ(۸۱)
ترجمۂکنزالایمان:  تم فرماؤ بفرضِ مُحال رحمٰن کے کوئی بچہ ہوتا تو سب سے پہلے میں  پوجتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: (ایک ناممکن بات کو فرض کرکے کہتا ہوں کہ) اگر رحمن کے کوئی بیٹاہوتا تو سب سے پہلے میں  (اس کی) عبادت کرنے والا ہوتا۔
{قُلْ: تم فرماؤ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرمائیں  کہ میں  ایک ناممکن بات کو فرض کرکے کہتا ہوں کہ اگررحمن کا کوئی بیٹاہوتا تو سب سے پہلے میں  اس کی عبادت کرنے والا ہوتا لیکن اس کا کوئی بیٹا نہیں