Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
164 - 764
	معلوم ہوا کہ جنت کے درخت سدا بہار پھل دار ہیں ،ان کی زیب و زینت میں  فرق نہیں  آتا۔ 
اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚۖ(۷۴) لَا یُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَ هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَۚ(۷۵) وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا هُمُ الظّٰلِمِیْنَ(۷۶)
ترجمۂکنزالایمان:  بیشک مجرم جہنم کے عذاب میں  ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔وہ کبھی ان پر سے ہلکا نہ پڑے گا اور وہ اس میں  بے آ س رہیں  گے۔  اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا ہاں  وہ خود ہی ظالم تھے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک مجرم جہنم کے عذاب میں  ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔وہ کبھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میں  مایوس پڑے رہیں  گے۔اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں  وہ خود ہی ظالم تھے۔
{اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ: بیشک مجرم۔} ایمان والے متقی لوگوں  کے لئے جنت کے انعامات ذکر فرمانے کے بعد یہاں  سے کفار کے لئے جہنم کی سزا بیان کی جا رہی ہے۔ اس آیت اوراس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک کافرجہنم کے عذاب میں  ہمیشہ رہنے والے ہیں  کہ جیسے گناہ گار مسلمانوں  کا عذاب ختم ہوجائے گا ویسے ان کا عذاب کبھی ختم نہ ہو گا۔وہ عذاب ان سے کبھی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی اس میں  کمی کی جائے گی، وہ اس میں  نجات ،راحت اورسزا میں  کمی سے مایوس پڑے رہیں  گے اور یہ عذاب دے کر ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں  کیا، ہاں  وہ خود ہی ظالم تھے کہ سرکشی و نافرمانی کرکے اس حال کو پہنچے ہیں ۔( روح البیان، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۷۴-۷۶، ۸/۳۹۳)
کفار کے لئے بیان کی گئی سزاؤں  میں مسلمانوں  کے لئے بھی عبرت:
	یاد رہے کہ کفار کے لئے بیان کی گئی سزاؤں  میں  جہاں  ان کے لئے وعید ہے وہیں  ان میں مسلمانوں  کے لئے بھی عبرت اور نصیحت ہے کیونکہ اس بات میں  اگرچہ کوئی شک نہیں کہ ہم فی الوقت مسلمان ہیں  ،لیکن ہم میں  سے کسی کے پاس اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں  کہ وہ مرتے دم تک مسلمان ہی رہے گا کیونکہ جس طرح بے شمار کفار خوش قسمتی