بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ا س فر مان کا یہی معنی ہے۔( ابن ابی حاتم، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۷۲، ۱۰/۳۲۸۶)
لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ(۷۳)
ترجمۂکنزالایمان: تمہارے لیے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تمہارے لیے اس میں کثرت سے پھل ہیں جن میں سے تم کھاتے رہو گے۔
{لَكُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ كَثِیْرَةٌ: تمہارے لیے اس میں کثرت سے پھل ہیں ۔} یعنی تمہارے لئے جنت میں کھانے اور شراب کے علاوہ طرح طرح کے بے شمار پھل ہوں گے جن میں سے تم کھاتے رہو گے۔( روح البیان، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۷۳، ۸/۳۹۲)
جنت کے سدا بہار پھلـ:
جنت کے پھلوں کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَ‘‘(واقعہ:۲۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور پھل میوے جو جنتی پسند کریں گے۔
اور ارشاد فرمایا: ’’مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-اُكُلُهَا دَآىٕمٌ وَّ ظِلُّهَاؕ-تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا‘‘(رعد:۳۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس جنت کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں جاری یں ، اس کے پھل اور اس کا سایہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ یہ پرہیزگاروں کا انجام ہے۔
اورحضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر اہل ِجنت میں سے کوئی شخص جنتی درخت سے ایک پھل لے گا تو درخت میں اس کی جگہ دو پھل نمودار ہوجائیں گے۔(مسند البزار، مسند ابی الدرداء رضی اللّٰہ عنہ، ۱۰/۱۲۳، الحدیث: ۴۱۸۷)