هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا‘‘(دہر:۱۵۔۲۲)
گے اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب انہیں پاکیزہ شراب پلائے گا۔ (ان سے فرمایا جائے گا) بیشک یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری محنت کی قدر کی گئی ہے۔
اورحضرت بریدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پوچھا: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں جنت میں داخل کیا تو تم اس میں سرخ یاقوت کے جس گھوڑے پر سوار ہونا چاہو گے( ہوجاؤ گے)اور جنت میں ( تمجہاں چاہو گے)وہ تمہیں اڑا کرلے جائے گا۔ایک اور آدمی نے پوچھا: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا جنت میں اونٹ ہوں گے ؟آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے وہ جواب نہ دیاجو پہلے شخص کو دیا تھا بلکہ ارشاد فرمایا’’اگر اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں لے جائے تو جو کچھ تمہارا جی چاہے گا اور جس چیز سے تمہاری آنکھوں کو لذت ملے گی تمہیں وہی کچھ ملے گا۔( ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء فی صفۃ خیل الجنۃ، ۴/۲۴۳، الحدیث: ۲۵۵۲)
جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو گا:
ان آیات سے معلوم ہو اکہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو گا اور ا س کے درجات کی تقسیم نیک اعمال کے مطابق ہو گی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم اللہ تعالیٰ کے معاف فرمانے سے پل صراط پار کرو گے،اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہو گے اور تمہارے اعمال کے مطابق(جنت کے) درجات تم میں تقسیم کئے جائیں گے۔( در منثور، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۷۲، ۷/۳۹۴)
{وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا: اور یہی وہ جنت ہے جس کا تمہیں وارث بنایا گیا ہے۔} حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ تم میں سے ہر شخص کا ایک گھر جنت میں اور ایک گھر جہنم میں ہے،کافر جہنم میں مومن کے گھر کا وارث بن جاتا ہے اور مومن جنت میں کافر کے گھر کا وارث