Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
161 - 764
جس کا تمہارے اعمال کے صدقے تمہیں  وارث بنایا گیا ہے۔
{یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ: ان پر سونے کی تھالیوں  اور جاموں  کے دَور ہوں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جنت میں  داخل ہونے کے بعد مومن بندوں  پر کھانے سے بھر ی سونے کی تھالیوں  اورشراب سے لبریز جاموں  کے دَور ہوں  گے اور جنت میں  ان کے لئے مختلف اَقسام کی وہ تمام چیزیں  ہوں  گی جن کی ان کے دل خواہش کریں  گے اور جن سے آنکھوں  کو لذّت ملے گی اور تم جنت میں  ہمیشہ رہو گے اور یہی وہ جنت ہے جس کا تمہارے دُنْیَوی نیک اعمال کے صدقے تمہیں  وارث بنایا گیا ہے۔( روح البیان، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۷۱-۷۲، ۸/۳۸۹-۳۹۲)
جنت کی عظیم نعمتیں :
	جنت کی ان عظیم نعمتوں  کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ(۱۵) قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا(۱۶)وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ(۱۷) عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا(۱۸) وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۚ-اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا(۱۹) وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا(۲۰) عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ٘-وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍۚ-وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا(۲۱) اِنَّ
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان پر چاندی کے برتنوں  اورگلاسوں   کے دَور ہوں  گے جو شیشے کی طرح ہوں  گے۔ چاندی کے  شفاف شیشے جنہیں  پلانے والوں  نے پورے اندازہ سے (بھر کر) رکھا ہوگا۔ اور جنت میں  انہیں  ایسے جام پلائے جائیں  گے جس میں  زنجبیل ملاہوا ہوگا۔ زنجبیل جنت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل رکھا جاتا ہے۔ اور ان کے آس پاس ہمیشہ رہنے والے لڑکے (خدمت کیلئے) پھریں  گے جب تو انہیں  دیکھے گا تو توانہیں  بکھرے ہوئے موتی سمجھے گا۔اور جب تووہاں دیکھے گا تو نعمتیں  اور بہت بڑی سلطنت دیکھے گا۔ ان پرباریک اور موٹے ریشم کے سبز کپڑے ہوں