Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
160 - 764
’’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ‘‘ یعنی میرے بندے وہ ہیں جو ہماری آیتوں  پر ایمان لائے اور وہ فرمانبردار تھے۔ یہ سن کر مسلمانوں  کے علاوہ تمام مذاہب والے اپنے سروں  کو جھکا لیں  گے ۔
	اورحضرت حارث محاسبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’حدیث میں  ہے کہ قیامت کے دن مُنادی اعلان فرمائے گا ’’یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ‘‘ تو تمام لوگ اپنے سروں  کو اٹھا لیں  گے اور کہیں  گے: ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ۔پھر دوسری بار مُنادی فرمائے گا ’’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ‘‘ تو تمام کفار اپنے سروں  کو جھکا لیں  گے جبکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے والے اپنے سر اٹھائے رکھیں  گے ۔پھر تیسری بار مُنادی فرمائے گا ’’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ‘‘ تو کبیرہ گناہ کرنے والے اپنے سروں  کو جھکا لیں  گے جبکہ مُتّقی لوگ اسی طرح اپنے سر اٹھائے رکھیں  گے ۔اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق ان سے خوف اور غم دور کر دے گا کیونکہ وہ اکرمُ الاکرمین ہے، وہ اپنے اولیاء کو شرمندہ نہیں  ہونے دے گا۔( تفسیرقرطبی، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۸، ۸/۸۰-۸۱، الجزء السادس عشر)
یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍۚ-وَ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْهِ الْاَنْفُسُ وَ تَلَذُّ الْاَعْیُنُۚ-وَ اَنْتُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَۚ(۷۱) وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۷۲)
ترجمۂکنزالایمان:  ان پر دورہ ہوگا سونے کے پیالوں  اور جاموں  کا اور اس میں  جو جی چاہے اور جس سے آنکھ کو لذت پہنچے اور تم اس میں  ہمیشہ رہو گے۔اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کئے گئے اپنے اعمال سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ان پر سونے کی تھالیوں  اور جاموں  کے دَور ہوں  گے اور جنت میں  وہ تمام چیزیں  ہوں  گی جن کی ان کے دل خواہش کریں  گے اور جن سے آنکھوں  کو لذت ملے گی اور تم اس میں  ہمیشہ رہوگے۔اور یہی وہ جنت ہے