ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر وہ گروہ آپس میں مختلف ہوگئے تو ظالموں کیلئے ایک درد ناک دن کے عذاب کی خرابی ہے۔
{فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ: پھر وہ گروہ آپس میں مختلف ہوگئے۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے شرک بیان فرمائے ہیں ،چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد عیسائیوں کے مختلف گروہ بن گئے ، ان میں سے کسی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خدا تھے، کسی نے کہا کہ خدا کے بیٹے تھے اور کسی نے کہا کہ تین خداؤں میں سے تیسرے تھے۔الغرض عیسائیوں کے یعقوبی ،نسطوری، ملکانی اور شمعونی فرقے بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جنہوں نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں کفر کی باتیں کہیں ، ان ظالموں کیلئے قیامت کے درد ناک دن کے عذاب کی ہلاکت ہے۔( جلالین، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۴۰۹، مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۱۱۰۵، ملتقطاً)
هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۶۶)
ترجمۂکنزالایمان: کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ اُن پر اچانک آجائے اور اُنہیں خبر نہ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ قیامت ہی کا انتظار کررہے ہیں کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔
{هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ: وہ قیامت ہی کا انتظار کررہے ہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں مختلف فرقے بن گئے اور ان کے متعلق باطل باتیں کہہ رہے ہیں (ان کے حال سے یہی نظر آ رہا ہے کہ) وہ اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جس میں قیامت اچانک قائم ہو جائے گی اور انہیں اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو گی۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفارِ مکہ(کے طرزِ عمل سے یہی نظر آتا ہے کہ) قیامت کے آنے کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں دُنْیَوی کام کاج میں مشغولیَّت کی وجہ سے اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔( تفسیرطبری، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۶، ۱۱/۲۰۸، جلالین، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۴۰۹، مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۱۱۰۵، ملتقطاً)
موت چھوٹی قیامت ہے،یہ بھی اچانک آئے گی:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ قیامت اچانک آئے گی اور یاد رہے کہ بڑی قیامت سے پہلے ایک چھوٹی قیامت