Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
156 - 764
ہے،یہ بھی اچانک ہی آئے گی اور یہ قیامت ’’موت‘‘ ہے ،لہٰذاہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ چھوٹی قیامت قائم ہونے سے پہلے پہلے بھی گناہوں  کو چھوڑ دے اور اپنے سابقہ تمام گناہوں  اور جُرموں  سے سچی توبہ کر کے نیک اعمال کرنے میں  مصروف ہو جائے ،اَحادیث میں  بھی ا س کی بہت ترغیب دی گئی ہے ،چنانچہ
	حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جب تم میں  سے کسی کو موت آ گئی تو بے شک اس کی قیامت قائم ہو گئی توتم اللہ تعالیٰ کی عبادت ا س طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور ہر گھڑی اس سے مغفرت طلب کرتے رہو۔( مسند الفردوس، باب الالف، ۱/۲۸۵، الحدیث: ۱۱۱۷)
	اور حصرتِ اُبی بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : جب رات کے دو تہائی حصے گزر جاتے تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اٹھتے اور فرماتے: ’’اے لوگو! اللہ تعالیٰ کاذکر کرو، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو ۔تَھرتھرا دینے والی چیز آپہنچی، اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی۔ موت اپنے اندر موجود تکالیف کے ساتھ آپہنچی ہے،موت اپنے اندر موجود تکالیف کے ساتھ آپہنچی ہے۔( ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ... الخ، ۲۳-باب، ۴/۲۰۷، الحدیث: ۲۴۶۵)
	اللہ تعالیٰ ہمیں  گناہوں  سے سچی توبہ کرنے اور نیک اعمال میں  مصروف رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷)
ترجمۂکنزالایمان:  گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں  گے مگر پرہیزگار۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں  گے سوائے پرہیزگاروں  کے۔
{اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ: اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں  گے۔} اس سے پہلی آیت میں  قیامت کا ذکر ہوا ،اب اس آیت سے قیامت کے بعض اَحوال بیان کئے جا رہے ہیں  ۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں  جودوستی کفر اور مَعصِیَت کی بنا پر تھی وہ قیامت کے دن دشمنی میں  بدل جائے گی جبکہ دینی دوستی اور وہ محبت