(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میرے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ (قیامت کے قریب آسمان سے) نازل ہوں گے، جب تم انہیں دیکھو گے تو پہچان لوگے،ان کا رنگ سرخی آمیز سفید ہو گا،قد درمیانہ ہو گا،وہ ہلکے زرد رنگ کے حُلّے پہنے ہوئے ہوں گے ،ان پر تری نہیں ہو گی لیکن گویا ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے ،وہ اسلام پر لوگوں سے قتال کریں گے ،صلیب توڑ دیں گے ،خنزیر کو قتل کریں گے،جِزیَہ مَوقوف کر دیں گے ،اللہ تعالیٰ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب کو مٹا دے گا،حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مسیح دجال کو ہلاک کریں گے ،چالیس سال زمین میں قیام کرنے کے بعد وفات پائیں گے اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے ۔( ابو داؤد، اول کتاب الملاحم، باب ذکر خروج الدجال، ۴/۱۵۸، الحدیث: ۴۳۲۴)
قیامت کی 10علامات:
قیامت کی ایک علامت اس آیت میں بیان ہوئی اور چند علامات اس حدیثِ پاک میں بیان ہوئی ہیں ۔ چنانچہ حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمارے پاس اس دوران تشریف لائے جب ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم کیا باتیں کر رہے تھے۔ہم نے عرض کی:ہم قیامت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ ارشاد فرمایا’’اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک تم ا س کے بارے میں دس نشانیاں نہ دیکھ لو (1)دھواں (2)دجال(3)دابۃ الارض، (ایک عجیب و غریب شکل و صورت کا جانور) (4)سورج کا مغرب سے طلوع ہونا (5)حضرت عیسیٰ بن مریم کا نزول(6)یاجوج ماجوج (7)مشرق میں زمین دھنسنا(8)مغرب میں زمین دھنسنا (9)جزیرۂ عرب میں زمین دھنسنا(10) یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہَنکا کر میدانِ محشر کی طرف لے آئے گی۔( مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب فی الآیات التی تکون قبل الساعۃ، ص۱۵۵۱، الحدیث: ۳۹(۲۹۰۱))
وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُۚ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۶۲)