Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
152 - 764
ترجمۂکنزالایمان:  اور ہرگز شیطان تمہیں  نہ روک دے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہرگز شیطان تمہیں  نہ روکے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
{وَ لَا یَصُدَّنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ: اور ہرگز شیطان تمہیں  نہ روکے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہرگز شیطان تمہیں  شریعت کی پیروی کرنے سے یا قیامت کا یقین رکھنے سے یا اللہ تعالیٰ کے دین پر قائم رہنے سے نہ روک دے، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس کی عداوت اس سے ظاہر ہے کہ اس کی وجہ سے تمہارے والد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جنت سے (زمین پر)تشریف لے جانا پڑااور ان کے جسم سے نور کا لباس اتار لیا گیا پھر وہ تمہارا دوست کیسے ہو سکتا ہے؟ (مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۲، ص۱۱۰۴-۱۱۰۵، خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۶۲، ۴/۱۰۹، ملتقطاً)
شیطان کی انسانوں  سے عداوت اور دشمنی:
	اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں  کئی مقامات پر شیطان کی عداوت اور دشمنی کی پہچان کروائی ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ لوگ شیطان کے دشمن ہونے پر ایمان لائیں  اور ا س کے شر سے بچنے کی کوشش کریں  ،چنانچہ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا‘‘(بنی اسرائیل:۵۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک شیطان لوگوں  کے درمیان فساد ڈال دیتا ہے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
	اور ارشاد فرماتا ہے :
’’وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘(سورہ بقرہ:۱۶۸،۱۶۹)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور شیطان کے راستوں  پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہ تمہیں  صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دے گا اور یہ (حکم دے گا) کہ تم اللہ کے بارے میں  وہ کچھ کہو جو خود تمہیں  معلوم نہیں ۔