اور حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اس کی پسند کی تمام چیزیں عطا کر رہا ہے لیکن اس بندے کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر قائم ہے تو یہ اس کے حق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل ہے۔( معجم الاوسط، باب الواو، من اسمہ ولید، ۶/۴۲۲، الحدیث: ۹۲۷۲)
اورحضرت عمر بن ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’اے گناہگارو!اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کے باوجود جو مسلسل حِلم فرما رہا ہے تم ا س کی وجہ سے گناہوں پر اور جَری نہ ہوجاؤاور ا س کی ناراضی سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا توہم نے ان سے بدلہ لیا۔( شعب الایمان،السابع والاربعون من شعب الایمان...الخ،فصل فی الطبع علی القلب...الخ،۵/۴۴۷،الحدیث:۷۲۲۷)
اللہ تعالیٰ مال و دولت اور منصب و مرتبے کی وجہ سے پیدا ہونے والی سرکشی اور ا س کی آفات سے ہمیں محفوظ فرمائے ،اٰمین۔
وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ(۵۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی جائے جبھی تمہاری قوم اُس سے ہنسنے لگتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی جاتی ہے تو جبھی تمہاری قوم اس سے ہنسنے لگتی ہے۔
{وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا: اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی جاتی ہے۔} اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ جب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قریش کے سامنے یہ آیت ’’وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ‘‘ پڑھی ،جس کے معنی یہ ہیں کہ اے مشرکین !تم اور اللہ تعالیٰ کے سوا جن چیزوں کو تم پوجتے ہو سب جہنم کا ایندھن ہے۔ یہ سن کر مشرکین کو بہت غصہ آیا اور ابنِ زبعری کہنے لگا :اے محمد! (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کیا یہ خاص ہمارے