کو ڈبودیا۔ اُنہیں ہم نے کردیا اگلی داستان اور کہاوت پچھلوں کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا توہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو غرق کردیا۔ تو ہم نے انہیں اگلی داستان کردیا اور بعد والوں کیلئے مثال بنادیا۔
{فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا: پھر جب انہوں نے ہمیں ناراض کیا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب فرعون اور ا س کی قوم نے اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے جرموں کی سزا میں سب کو غرق کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ماضی کی عبرتناک داستان بنادیا اور بعد والوں کے لئے مثال بنا دیا تا کہ بعد والے اُن کے حال اور انجام سے نصیحت و عبرت حاصل کریں ۔( خازن، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۵۵، ۴/۱۰۸)
سرکش مالداروں اور منصب والوں کے لئے عبرت کا مقام :
ان آیا ت میں بیان کئے گئے واقعے میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت اور نصیحت ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا،معاشرے میں مقام ومرتبہ عطا کیا اورحکومت وسلطنت سے سرفراز کیا لیکن وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کرنے کی بجائے ا س کی ناشکری کرنے میں اور گناہوں میں مشغول رہ کر مسلسل اس کی نافرمانیوں میں مصروف ہیں ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ(۴۴)فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاؕ-وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۴۵)‘‘(انعام:۴۴،۴۵)
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیاجو انہیں کی گئی تھیں توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیاپس اب وہ مایوس ہیں ۔ پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اورتمام خوبیاں اللہکے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔