Brailvi Books

صراط الجنان جلد نہم
146 - 764
اور ہمارے معبودوں  ہی کے لئے ہے یاہر اُمت اورگروہ کے لئے ہے؟سَرورِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ یہ تمہارے اور تمہارے معبودوں  کے لئے بھی ہے اور سب اُمتوں  کے لئے بھی ہے۔اس پر ابنِ زبعری نے کہا کہ آپ کے نزدیک حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی ہیں  اور آپ اُن کی اور اُن کی والدہ کی تعریف کرتے ہیں  اور آپ کو معلوم ہے عیسائی ان دونوں  کو پوجتے ہیں  اور حضرت عزیر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتے بھی پوجے جاتے ہیں  یعنی یہودی وغیرہ ان کو پوجتے ہیں  تو اگر یہ حضرات (مَعَاذَاللہ) جہنم میں  ہوں  تو ہم ا س بات پر راضی ہیں  کہ ہم اور ہمارے معبود بھی ان کے ساتھ ہوں  اور یہ کہہ کر کفار خوب ہنسے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
’’ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤىۙ-اُولٰٓىٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ‘‘(انبیاء:۱۰۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جن کے لیے ہمارا بھلائی کا وعدہ  پہلے سے ہوچکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں  گے۔
	اوریہ آیت نازل ہوئی ’’وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ یَصِدُّوْنَ‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ جب ابنِ زبعری نے اپنے معبودوں  کے لئے حضرت عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مثال بیان کی اورحضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جھگڑا کیا کہ عیسائی انہیں  پوجتے ہیں  تو کفارِ قریش اُس کی اِس بات پر ہنسنے لگے۔( مدارک، الزّخرف، تحت الآیۃ: ۵۷، ص۱۱۰۳-۱۱۰۴)
وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَیْرٌ اَمْ هُوَؕ-مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًاؕ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ(۵۸)
ترجمۂکنزالایمان:  اور کہتے ہیں  کیا ہمارے معبود بہتر ہیں  یا وہ انہوں  نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو بلکہ وہ ہیں  ہی جھگڑالو لوگ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کہتے ہیں : کیا ہمارے معبود بہتر ہیں  یا وہ (عیسیٰ؟) انہوں  نے یہ مثال تم سے صرف جھگڑا کرنے